Professor Khan Episode 1 Season 2 by Zanoor Writes Complete Episode

 Professor Khan
 Zanoor Writes
Season 2
 Episode 1
(Series 2 in Professor Shah Novel)

کالی شلوار قمیض پر واسکٹ پہنے ، سرخ و سفید دائیں بازو پر گھڑی باندھے وہ اپنے چاکلیٹی براون بالوں میں ہاتھ پھیرتا سیڑھیا اتر کر نیچے آرہا تھا۔

سرخ و سفید رنگت ، اونچی کھڑی ناک ، گہری نیلی آنکھیں جن میں صرف سرد تاثر رہتا تھا اور چہرے پر چھائے سخت تاثرات شازل خان شکل سے ہی سخت مزاج کا مالک نظر آرہا تھا۔

"شازل تمھارا دماغ ٹھکانے پر ہے یہ کیا پاگل پن سوار کر لیا ہے تم نے ؟"

محب خان نے سخت لہجے میں شازل سے پوچھا تھا جو ایک دم اپنا خاندانی بزنس چھوڑ کر ایک نچلے درجے کی یونیورسٹی میں معمولی سی تنخواہ پر بطور پروفیسر کی خدمات سر انجام دینے والا تھا۔

"میں آپ کے فیصلوں کا محتاج نہیں ہوں۔۔"

وہ سخت لہجے میں بولا تھا۔سفید رنگت میں سرخیاں گھولنے لگی تھی۔پٹھانوں کا گرم خون اس کی رگوں میں جوش مارنے لگا تھا۔

"تم یوں معمولی نوکری کرکے ہمیں سب کے سامنے نیچا دکھانا چاہتے ہو؟"

محب خان کا بھی خون گرما گیا تھا تبھی وہ گرج دار لہجے میں چلائے تھے۔

"بالکل یہ ہی میرا پلان ہے۔۔آپ کتنی اچھی طرح اپنے بیٹے کے ارادوں سے واقف ہیں پھر بار بار ایک ہی بات پوچھ کر کیوں میرا دماغ خراب کر رہے ہیں ؟"

وہ غصے سے جبڑے بھینچ کر ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا تھا۔

"محب جانے دیں شازل کو۔۔"

شور کی آواز سن کر کچن سے نکلتی گل خان نے نرم لہجے میں کہا تھا۔شازل نے ایک سرسری نظر اپنی ماں پر ڈالی تھی۔محب خان اپنی بیگم کی بات سن کر فورا ڈھیلے پڑ گئے تھے۔ان کے لہجے کی شائستگی سے محب خان کا غصہ ہمیشہ ٹھنڈا پڑ جاتا تھا۔۔

شازل تیزی سے ایک نظر محب خان پر ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

"خیر سے جانا شازل۔۔"

اپنے پیچھے سے اپنی ماں کی آواز سن کر بھی اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے نہیں پڑے تھے۔ 

 شاہزیب افرحہ کے ساتھ ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھا تھا جب نورے خاموشی سے ناشتہ کرنے کے لیے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی۔میر شاہ ناشتہ کرکے صبح ہی آفس جاچکے تھے جبکہ فاطمہ بیگم اپنے کمرے میں بند تھیں۔جو ان کے آج کل کا معمول بن گیا تھا۔

"نورے اگر کچھ سپیشل کھانا ہے تو بتا دو میں بنا دیتی ہوں۔۔"

افرحہ نے اسے گم صم بیٹھے دیکھ کر بات کا آگاز کیا تھا۔

"نہیں بھابھی مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔"

اس نے ہلکی مسکان کے ساتھ افرحہ کو جواب دیا تھا۔شاہزیب جو گہری نظروں سے نورے کو دیکھ رہا تھا اس کی مسکراہٹ دیکھ کر اس کے دل کو کچھ سکون پہنچا تھا۔

"آج میری نور کا یونیورسٹی میں پہلا دن ہے ؟"

شاہزیب نے نورے کی طرف دیکھتے نرم آواز میں کہا تھا۔بہن کی ناراضگی اور بےرخی اسے سونے نہیں دیتی تھی۔

شاہزیب کینڈا میں موجود یونیورسٹی سے بات کرکے اس کی سٹڈیز یہاں موجود یونیورسٹی میں کنٹینو کروا چکا تھا جبکہ وہ خود آج کل بزنس سنبھال رہا تھا۔

شاہزیب چاہتا تھا نورے افرحہ کی یونیورسٹی میں اڈمیشن لے تاکہ دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھ سکیں مگر نورے کے کم نمبروں کی وجہ سے اس کا وہاں اڈمیشن نہیں ہوپایا تھا۔ وہ کچھ پڑھائی میں بھی نالائق تھی سو اس نے ایک لوکل یونیورسٹی میں اڈمیشن لے لیا تھا۔

"جی۔۔"

اس نے دھیمی آواز میں یک لفظی جواب دیا تھا۔ شاہزیب کو ناجانے کیوں وہ اپنی ایج کے برعکس برسوں کی تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔

"نورے مجھ سے جو شکوے شکایت ہیں وہ بیٹھ کر ختم کر لو تمھارا یہ اجنبی انداز مجھے تکلیف دیتا ہے۔۔"

شاہزیب سنجیدگی سے کرسی سے اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا۔نورے کی نظریں ٹیبل پر پڑی خالی پلیٹ پر مرکوز تھیں۔

"مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔"

وہ تیزی سے اٹھتی اپنا بیگ لے کر باہر بھاگ گئی تھی جہاں ڈرائیور گاڑی تیار لیے اس کو یونی لے جانے کے لیے کھڑا تھا۔

"شاہزیب اسے ٹائم دیں مجھے لگتا ہے وہ آپ کے جانے کے بعد آپ کو کافی یاد کرتی رہی ہے۔۔"

شاہزیب کا سپاٹ چہرہ دیکھتے افرحہ نے نرمی سے کہا تھا۔

"ہمم۔۔چلو تمھیں یونیورسٹی چھوڑ دوں لیٹ ہوجاو گی۔۔"

شاہزیب نے اس کے ماتھے پر شدت سے لب رکھتے کہا تھا۔افرحہ سر ہلاتی تیزی سے اپنا جوس ختم کرتی ہینڈ بیگ لیتی اس کے پیچھے چل پڑی تھی۔ 

 سردیوں کے دن تھے نورے نے کالے رنگ کا سوٹ ، سرخ دوپٹہ اور کالی شال کندھوں پر پھیلائی ہوئی تھی۔گاڑی کے شیشے سے ٹیک لگائے وہ ہرطرف پھیلی دھند کو دیکھ رہی تھی۔

وہ گہری سوچ میں تھی جب اچانک گاڑی کو پیچھے سے شدید زور کا دھچکا لگا تھا۔وہ سیٹ بیلٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ شیشے میں لگتی آگے کی طرف گری تھی۔

"اللہ خیر کرے بی بی جی آپ ٹھیک ہیں۔۔"

ڈرائیور کی پریشان کن آواز پر وہ فورا سیدھی ہوئی تھی۔اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

"جی میں ٹھیک ہوں کیا ہوا ؟"

وہ اپنے سر کو ہاتھ لگا کر سنجیدگی سے بولی تھی۔

"بی بی جی وہ میں نے گاڑی کی سپیڈ دھیمی کی تھی اچانک سے پیچھے سے کسی گاڑی کا تصادم ہوا ہے۔۔"

ڈرائیور گھبرا کر بولا تھا۔نورے کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔

"نکلو باہر۔۔"

نورے جو بات سن رہی تھی اس کی نظر شیشے پر پڑی تھی جہاں پر ایک آدمی غصے سے بھرا گاڑی کے شیشے پردستک دے رہا تھا۔

"آپ رکیں میں بات کرتی ہوں۔۔"

ڈرائیور کو گھبرایا دیکھ کر وہ خود گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر نکلی تھی اسے پتا چل گیا تھا غلطی اس کے ڈرائیور سے ہوئی تھی۔

شازل جو اپنے دھیان میں گاڑی چلا رہا تھا سامنے والی گاڑی کے اچانک گاڑی کی سپیڈ دھیمی کرنے پر اس نے فورا بریک پر پاوں رکھا تھا لیکن پھر بھی اس کی گاڑی سامنے والی گاڑی میں بج گئی تھی۔

وہ غصے سے بھرا تبھی ڈرائیور کے سر پر پہنچ گیا تھا۔

"جی کیا بات ہے ؟"

نورے نے سخت لہجے میں پوچھا تھا۔

"میں عورتوں سے بات نہیں کرتا ڈرائیور کو کہو باہر نکلے۔۔"

وہ مقابل کے چہرے پر سرسری نظر ڈال کر سرد لہجے میں بولا تھا۔

"اچھا پھر مجھے بھی آپ کی بات سنائی نہیں دے رہی۔۔"

مقابل کی اونچی آواز سن کر اس نے اپنی گہری نیلی آنکھوں سے اسے گھور کر دیکھا تھا۔

اس نے بنا کچھ بولے اپنے واسکٹ میں ہاتھ ڈالتے گن نکال لی تھی۔نورے اس کی حرکت پر ہکا بکا رہ گئی تھی۔

"دو منٹ میں باہر نکلو ورنہ شیشہ توڑ کر گھسیٹ کر باہر نکالوں گا۔۔"

وہ غصے سے غرایا تھا۔

"آپ پاگل ہیں ایک چھوٹی سی بات کو بڑھا رہے ہیں۔۔یہ گن نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں آپ کا نقصان پورا کردوں گی۔۔"

نورے معاملہ بگڑتے دیکھ کر تحمل مزاجی سے کام لے رہی تھی۔

"تمھیں سنائی نہیں دے رہا نکلو باہر۔۔"

شازل کی غصیلی آواز سے ڈرائیور مرتا کیا نہ کرتا باہر نکل آیا تھا۔شازل نے اسےگریبان سے پکڑتے اپنے سامنے کیا تھا۔

"عمر کا لحاظ کرکے چھوڑ رہا ہوں اور مرد بن کر خود باہر نکلا کرو۔۔"

وہ ڈرائیور کو جھنجھوڑتا غصے میں بولتا اسے گاڑی کی طرف دھکا دیتا بنا نورے پر نظر ڈالے گن واسکٹ میں رکھتے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔

نورے اس کی بات سن کر ایک پل کو حیران رہ گئی تھی اسے لگا تھا وہ ڈرائیور کو مار دے گا۔۔نورے کی خاموش نظروں نے اس کا گاڑی تک پیچھا کیا تھا۔

"آپ گاڑی دھیان سے چلایا کریں آپ کی وجہ سے ایک بہت بڑا حادثہ بھی ہوسکتا تھا۔۔"

نورے ڈرائیور کو سختی سے بولتی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ڈرائیور بھی معافی مانگتا واپس ڈرائیوینگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ 

 "روحان تمھارے لیے ایک جاب ہے۔۔"

روحان جو جم میں موجود تھا وہ فون کان سے لگاتا ایک دم سیدھا ہوا تھا جب سے وہ بریرہ کی حفاظت کرنے میں ناکام ٹھہرا تھا تب سے وہ اپنی ٹرینگ کر رہا تھا۔اس نے دو دن پہلے ہی ایک باڈی گارڈ کی کمپنی میں اپلائے کیا تھا۔اور آج اسے کال بھی آگئی تھی۔

"کیسی جاب؟"

اس نے اپنے پسینے سے بھیگے بالوں میں انگلیاں پھیری تھیں۔

"ایک لڑکی ہے اس کے لیے فل سکیورٹی چاہیے ٹونٹی فور سیون۔۔اس کی حفاظت کے لیے چار باڈی گارڈز ہائر کیے گئے ہیں جن میں سے ایک تم ہو۔۔جاب سمپل ہے تمھیں ہر حال میں لڑکی کی حفاظت کرنی ہے کسی کو بھی اس کے پاس نہیں آنے دینا اسے لوگوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے اس لیے تم لوگ صرف دور سے ہی اس کا خیال رکھو گے۔۔اس کے قریب جانا یا چھونے سے اس کا پینک اٹیک ٹریگر ہوجاتا۔۔اس لیے تم لوگ دور رہ کر اس کی حفاظت کرو گے۔۔"

جاب کی ڈسکرپشن سن کر اس نے ایک سرد آہ خارج کی تھی۔

"اوکے کب سے جوائنگ کرنی ہے ؟"

روحان نے تولیے سے اپنے چہرے پر موجود پسینہ صاف کیا تھا۔

"کل صبح سے اڈریس تمھیں رات کس ای میل کردیا جائے گا لیکن اس سے پہلے تمھیں ایک نان کانفیڈینشل کانٹریکٹ سائن کرنا ہوگا۔۔"

اپنے باس کی بات سنتے وہ حیران ہوا تھا یقینا کوئی امیر ترین شخص ہی اسے ہائیر کر رہا تھا جو کانٹریکٹ بھی سائن کروا رہا تھا۔

"اوکے میں شام کو کمپنی آجاوں گا کنٹریکٹ کے ٹرمز اینڈ کنڈیشن دیکھ کر میں سائن کرو گا۔۔"

روحان نے تولیہ زمین پر پھینکتے جواب دیا تھا۔جس پر مقابل نے ہنکار بھرتے فون بند نر دیا تھا۔

وہ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز دیکھ کرکانٹریکٹ سائن کرچکا تھا۔اپنا یونفارم وہ ڈرائی کلین کروا کر اپنے سارے سامان کو بھی پیک کرچکا تھا۔

وہ جس جگہ جارہا تھا اس جگہ کا کسی کو بتانا بھی منع تھا۔تبھی وہ بنا کسی کو اطلاع دیے اپنا پرانا فون بند کرتا نیا فون آن کرچکا تھا۔

اپنی منزل پر پہنچ کر وہ اپنے ساتھیوں سے مل چکا تھا۔وہ ہیڈ آف گارڈز تھا تبھی سب کو پیچھے کرتا سارا معاملہ خود جان رہا تھا۔

ہیڈ آف میڈز نے اسے سب کچھ سمجھا دیا تھا اور جس لڑکی کی حفاظت کرنی تھی اس کا سارے دن کا شیڈیول بھی اسے دے چکے تھے۔

روحان سب گارڈز کی پوزیشن سیٹ کروا کر خود بھی اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا تھا۔

گیارہ بجتے ہی اوپر منزل پر موجود دروازہ کھولا تھا۔روحان کو پتا چل گیا تھا وہ لڑکی نیچے آرہی جس کی حفاظت انھوں نے کرنی تھی۔۔روحان کو اس ہستی کو دیکھنے کا تجسس تھا جسے اتنی سکیورٹی دی جارہی تھی۔گھر کے اندر صرف وہ ہی ایک گارڈ موجود تھا باقی سب گھر کے باہر موجود تھے۔

ہلکے نیلے رنگ کا لمبا گاون پہنے گلے میں رومال لپیٹے وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی سیڑھیوں سے اتر رہی تھی۔روحان کی نظریں اس کے سفید پاوں سے ہوتی اس کے نازک سراپے سے گزرتی اس کے چہرے پر اٹک گئی تھی۔اس کو اپنی دھڑکن ایک پل کو ساکت ہوتی محسوس ہوئی تھی۔وہ اس کے گڑیا جیسے سفید مومی چہرے اور خوبصورت تراشے گئے نین نکوش میں بری طرح الجھ کر رہ گیا تھا۔

مقابل کی گہری گرے آنکھیں اٹھی تھیں اور روحان کی دل کی دھڑکنیں بڑھا گئیں تھیں۔۔

"مجھے پسند نہیں کوئی میری طرف دیکھے۔۔"

دانین کی کانپتی مگر سخت آواز روحان کے کانوں میں پڑی تھی۔روحان نے نوٹ کیا تھا اس کے ہاتھ اس دوران بری طرح کانپ رہے تھے جسے اس نے اپنے بازو باندھ کر چھپا لیا تھا۔

"مِلی کیا تم نے انھیں انسٹرکشنز نہیں دی تھیں ؟"

وہ ایک لمحہ جہاں کانچ کی گڑیا لگ رہی تھی اگلے ہی لمحے سخت پتھر کی مورت لگ رہی تھی۔

"آئی ایم سوری میم میں انھیں دوبارہ اچھے سے وارن کردوں گی۔۔"

میڈ جواب دیتی روحان کی طرف مڑ گئی تھی۔

"ڈونٹ لک اٹ ہر اگین۔۔ڈو یو انڈرسٹینڈ۔۔؟"

ملی نے سخت آواز میں کہا تھا۔روحان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔

"یس۔۔"

روحان نے یک لفظی جواب دیا تھا۔

"گڈ ناو ڈو یور جوب اکاورڈنگ ٹو یور انسٹرکشنز۔۔"

ملی بولتے ہوئے تیزی سے دانین کے پاس چلی گئی تھی۔روحان سرد آہ خارج کرتا اپنی جگہ پر سٹل ہوگیا تھا۔ 

 نورے بنا کسی سے بات کیے کلاس میں داخل ہوتی آخر پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔آج اس کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا لیکن اسے کوئی خوشی محسوس نہیں ہورہی تھی۔

لیکچر کا ٹائم ہوتے ہی لڑکے اور لڑکیوں کا ایک بڑا ہجوم کلاس میں داخل ہو گیا تھا۔کچھ لڑکوں کی نظریں خود پر محسوس کرتے اس نے آنکھیں گھمائی تھیں۔۔وہ اپنی پرسنیلٹی سے ہی امیر لگ رہی تھی۔

"میرا نام شازل خان ہے یوکین کال می پروفیس خان۔۔اس کے علاوہ مجھے دوسرے نام بالکل نہیں پسند۔۔مجھے کلاس میں کوئی بھی مزاق یا بدتمیز پسند نہیں جو ایسا کرے گا وہ بعد میں یہ کلاس نہیں لے پائے گا۔۔آج کا سیشن شروع کرتے ہیں اس سبجیکٹ کے انٹروڈکشن سے۔۔"

شازل نے بازو کے کف فولڈ کرتے اپنا لیپ ٹاپ اون کیا تھا ساتھ ہی اسے پروجیکٹر سے اٹیچ کیا تھا۔کلاس میں ہلکی ہلکی سرگوشیاں ہونے لگی تھیں۔

"غنڈا۔۔"

اسے دیکھتے ہی نورے کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔۔بس ایک ہی لفظ اس کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا۔اس کی بےساختہ نظر شازل کی واسکٹ کی جانب گئی تھی جہاں سےاس نے گن نکالی تھی۔

اس کے دھیمی آواز میں بڑبڑانے پر اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا تھا۔

"واٹ ؟"

نورے نے سنجیدگی سے اس لڑکی کی طرف دیکھتے پوچھا تھا۔

"یو اسٹینڈ اپ۔۔"

شازل نے نورے کی طرف اشارہ کیا تھا اسے لگ رہا تھا وہ ساتھ والی لڑکی سے باتیں کر رہی ہے۔۔نورے کے کھڑے ہونے پر وہ اسے فورا پہچان گیا تھا۔

نورے کو اچانک سب کی نظریں خود پر محسوس کرکے گھبراہٹ ہونے لگی تھی اسے پتا چل گیا تھا شازل اس کی طرف اشارہ کر رہا تھا تبھی وہ لب بھینچ کر کھڑی ہوگئی تھی۔

"یس۔۔؟"

اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔

"جو سلائیڈ میں لکھا ہے وہ پڑھ کر بتائیں۔۔"

شازل کی بات سن کر اس نے مٹھیاں زور سے بھینچ لی تھیں۔۔اسے ہڑھنے میں تھوڑی مشکل ہوتی تھی۔

نورے نے اپنے لب تر کرتے سلائیڈ کی طرف دیکھا تھا۔اسےسارے الفاظ گڈ مڈ ہوتے محسوس ہورہے تھے۔گھبراہٹ سے اس کی ہتھیلیاں نم پڑنے لگی تھیں۔

"ا۔۔ای۔۔ایٹ۔۔"

اس کی زبان نے اس کا ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا۔اسے اپنے حلق میں کانٹے سے چھبتے محسوس ہونے لگے تھے۔وہ کچھ دیر پہلے بیٹھی کانفڈینٹ لڑکی بالکل بھی نہیں لگ رہی تھی۔اسےاپنے ارد گرد سے لڑکیوں کے ہلکی ہلکی ہنسنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

"اگر زبان چلانے کی بجائے میرے پڑھانے پر فوکس کرتیں تو آپ کو یہ مشکل نہیں ہوتی۔۔ناو سیٹ ڈاون۔۔اینڈ شٹ یور ماوتھ۔۔۔"

شازل کی بات سے وہ سلگ اٹھی تھی۔اسے کہاں برداشت تھا اپنی بےعزتی ہونا تبھی پیر پٹھکتی اپنی کتابیں لے کر وہ باہر نکل گئی تھی۔

شازل نے اس کے یوں جانے پر لب بھینچتے اپنا سر جھٹکا تھا۔ساتھ ہی وہ اگین پڑھانا شروع کرچکا تھا۔

"سمجھتا کیا ہے خود کو آیا بڑا پروفیسر بھاڑ میں جائے۔۔"

وہ خود کو کالم کرنے کے لیے گراونڈ میں ایک سائیڈ پر بنے بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔

"غنڈا کہیں کا۔۔میں بھی اس انسلٹ کا بدلہ لے کر رہوں گی۔۔*

وہ منہ بگاڑ کر بولتی اپنے سیل کو ائیر پوڈز سے اٹیچ کرکے گانے سننے لگ پڑی تھی۔ 

 "شاہزیب زرا نرمی سے سہلائیں۔۔ ہاں بالکل اسی طرح۔۔"

افرحہ بیڈ پر شاہزیب کے سامنے بیٹھی تھی جبکہ شاہزیب اس کے بالوں میں تیل لگا کر سہلا رہا تھا۔یہ بھی افرحہ کی فرمائش پر وہ راضی ہوا تھا ورنہ آئل کی چپچپاہٹ سے اسے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔

"دوبارہ میں یہ گندا کام بالکل نہیں کروں گا۔۔"

وہ سنجیدگی سے بولتا نرمی سے افرحہ کے بال سہلا رہا تھا۔

"میں سارا دن آپ کے کام کرتی ہوں اور آپ میرے لیے ایک کام نہیں کرسکتے۔۔"

وہ خفگی سے بولی تھی۔شاہزیب نے اس کے ڈرامے پر مسکراہٹ دباتے سر جھٹکا تھا۔

"سارا دن تو میں آفس میں اور تم یونیورسٹی میں رہتی ہو ایسے کون سے کام ہیں جو میرے تم سارا دن کرتی ہو؟"

شاہزیب نے بھنویں اچکاتے پوچھا۔

"خود کو آپ کے لیے سنبھال کر رکھتی ہوں۔۔اس سے بڑا اور کونسا کام ہے؟"

افرحہ جھٹ سے بولی تھی۔

شاہزیب نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتے اس کے گال کو دانتوں میں لے کر کاٹا تھا۔

"شاہزیب آپ کی شرٹ پر آئل لگ جائے گا۔۔آہ۔۔"

وہ اس کے اچانک کھینچنے پر ابھی سنبھلی بھی نہ تھی کہ اس کے یوں گال پر کاٹنے پر وہ بلبلا کر رہ گئی تھی۔

"ْکیا مجھے کچا کھانے کا ارادہ ہے ؟"

اس نے خفگی سے اپنے گال پر ہاتھ رکھتے شاہزیب کی طرف موڑتے کہا تھا جس نے نرمی سے اس کی ناک کو اپنی ناک سےملاتے ہولے سے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔افرحہ نے اس کے لمس کو محسوس کرتے آنکھیں میچ لی تھی۔۔

"ہمم۔۔دل کرتا ہے تمھیں کچا چبا کر کھا جاوں۔۔"

وہ اس کی ناک کو بھی دانتوں میں لے کر ہلکا سا کاٹ کر بولا تھا۔افرحہ اپنی ناک کو پکڑتی منہ پھولا کر اس سے دور ہوئی تھی۔

"میں نہیں بولتی آپ سے۔۔"

وہ منہ پھولا کر بولتی شاہزیب کو بےحد کیوٹ لگی تھی۔

"چپ کرکے واپس آجاو۔۔ورنہ تمھیں میرا پتہ ہے نہ۔۔"

شاہزیب نے اسے دور کھسکتے دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تھا۔وہ فورا اس کی بات پر کھسک کر اس کے قریب آتی اس کی شرٹ پر اپنا تیل والا سر رکھ چکی تھی۔

"آپ بہت برے ہیں۔۔"

وہ منہ بنا کر بولی تھی۔

"ہمم بالکل تمھارے علاوہ سب کے لیے۔۔"

شاہزیب نے مسکراتے ہوئے اس کے بالوں کو نرمی سے سہلایا تھا۔جس پر وہ سکون محسوس کرتک ہلکی مسکان کے ساتھ آنکھیں میچ گئی تھی۔

 جاری ہے۔۔

 اسلام علیکم ! کیسی لگی آج کی پہلی قسط ؟🤔 نورے کا کردار کیسا لگ رہا ہے؟😏☺ شازل خان کے بارے میں بتائیں؟😜😎 کیا لگتا ہے شازل خان اور نورے کے درمیان محبت کیسے ہوگی ابھی تو دونوں ہی غصے میں بھڑکے ہوئے ہیں۔ 😤😵جو لوگ روحان کے سنگل رہنے پر رو رہے تھے تو ان کے لیے سرپرائز اس ناول میں روحان کی سٹوری بھی ہوگی۔۔😇😌دانین ایک مسٹری کریکٹر ہے۔۔😉اور بھی چند کریکٹر ساتھ ساتھ سٹوری میں ایڈ ہوتے جائیں گے۔افرحہ اور شاہزیب ایک بار پھر حاضر ہیں کچھ کٹھی میٹھی لڑایوں اور محبت کے ساتھ۔۔💕اچھا سا رسپانس دیجیے گا تاکہ کل میں مزید لانگ ایپی سوڈ دے سکوں۔۔😍😘

 #Note
 Yeh Nechy Writer Ky Page Ka Link Dia Hua Hai..Jo Jo Facebook Per Hai Wo Yeh Novel Writer Page Page Pr Se Hi Prehyy Aur Review Bhi De....Yahaan Novel Sirf Un Logo Ke Liye Upload Kia Jaa Rha Hai Jo Facebook Use Nhi Kar Sakty Ya Nhi Use Krty...Regards

 نیچے دیے گئے میرے پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کو بھی انوائیٹ کریں۔
 https://www.facebook.com/ZanoorWrites